1. If you do not know how to use forum then please see this thread
    Dismiss Notice
  2. Donate for forum upgradation. Fund to raise is 140 USD Details
  3. Dismiss Notice

Diabetes mellitus information in urdu

Discussion in 'Medical Publications' started by Dr msk, Oct 22, 2014.

Share This Page

  1. Dr msk

    Dr msk Member

    Reputation:
    0
    ڈاکٹر وجیہ بخاری کی جانب سے ذیابیطس کا اہم معلوماتی لٹریچرڈاون لوڈ

    مصنف: ڈاکٹر وجیہ الحسن بخاری
    ذیابیطس کے مریض کے لئے اہم معلومات
    ہماری یہ کوشش ہے کہ آپ کو اس مختصر مضمون میں ذیابیطس کے بارے میں چند بہت بنیادی مگر اہم باتیں بتائی جائیں۔ اس مضمون کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس کو ڈاکٹر کی جگہ دے دیں اور آپ اپنا علاج خود کرنا شروع کردیں۔ آپ کو اگر ذیابیطس کا مرض ہے تو ایک مستند ڈاکٹر سے اپنا متواتر علاج کرواتے رہیئے ۔

    اعداد و شمار

    ذیابیطس کا مرض پاکستان میں بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔ اندازاً پاکستان میں 10 فیصد لوگ اس کا شکار ہیں۔ یہ ایک نہایت پریشان کن بات ہے۔ اگر پاکستان کی آبادی اب 18 کروڑ ہے تو اس میں غالباً پونے دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ذیابیطس کا مرض ہوگا۔

    ذیابیطس سے متعلق جسم کی ساخت اور افعال۔

    کسی بھی مرض کو سمجھنے کے لئیے ہمیں اس مرض سےمتعلقہ جسم کی ساخت اور اس کے افعال کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذیابیطس چونکہ خوراک اور اس کے اجزاء سے متعلق مرض ہے لہذا ہمیں خوراک، نظام انہضام اور جسم کے خوراک کے اجزاء کواستعمال کرنے کے طریقے کو سمجھنا ہوگا۔


    نظام انہضام

    جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو اس کا مقصد خوراک کو ہضم کرکے اس سے توانائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ہضم کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہےکھانے کو اتنے
    چھوٹے ٹکڑوں میں پیس دینا اور کیمیائی طریقوں سے اتنے چھوٹے اجزاء میں تقسیم کردینا کہ وہ خون میں جذب ہو پائے۔خوراک کے تین بڑے اجزاء ہوتے ہیں۔ کاربوہایڈررٹ :شکریات ، پروٹین: لحمیات، اورفیٹ :چکنائیاں۔ کاربوہایڈررٹ میں چینی، آٹا، نشاستہ ، پھل اور چاول وغیرہ آتے ہیں۔ تقریبا یًہ سب کاربوہایڈررٹ جب ہضم ہوتے ہیں تو جسم انہیں توڑ پھوڑ کر گلوکوز بنا دیتا ہے۔ گلوکوزایک طرح کی چینی ہوتی ہے۔ یہی وہ چینی ہے جو ذیابیطس میں خون میں بڑھ جاتی ہے۔ اور اسی چینی کو ذیابیطس کے مریض کے خون میں ناپا جاتاہے اور اسی چینی یعنی گلوکوز کو لوگ شوگر کہتے ہیں۔ کھانا منہ میں ہضم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دانت کھانے کو پیستے ہیں اورتھوک کھانے کو مائع حالت میں لے آتا ہے ۔ منہ سے کھانا خوراک کی نالی کے راستے معدے میں پہنچتا ہے۔ معدہ خوراک کو بلو بلو کر اور پیستا ہے اور معدے کی تیزابی رطوبتیں کھانے اور اس میں شامل گوشت کو گلا کر اسے بالکل محلول بنا دیتی ہیں۔ معدے سے کھانا آنتوں میں پہنچتا ہے۔ جگر اپنی رطوبت، جسے صفراکہا جاتا ہے ،ایک نالی کے ذریعے آنتوں میں خارج کرتا ہے۔ صفرا کھانے کی چکنائی کو توڑ کر اسے پتلا کردیتا ہے۔پھر لبلبہ، جو کہ ایک غدود ہوتا ہے،اپنا رس آنتوں میں ڈالتا ہے جس سے کھانا کیمیائی عمل کے نتیجے میں بہت چھوٹے اجزاء میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ لبلبہ پیٹ میں آنتوں کے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ آنتوں کی دیواروں میں خون کی نالیاں ہوتی ہیں جن میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں۔ اُن سوراخوں میں سے پسا اور تقسیم ہوا کھانا چھن چھن کر خون کی نالیوں میں دوڑتے ہوئے خون میں جذب ہو جاتا ہے۔ یوں ہضم کرنے کا کام مکمل ہوتا ہے۔ شکریات یا کاربوہایڈررٹ اگر تو چھوٹی اور سادہ شکل میں ہوں تو انہیں مزید چھوٹا بنا کر ہضم کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ل ہذا یہ فوراً ہضم ہوکر خون میں شامل ہوجاتے ہیں اور خون کی شوگر تیزی سے بڑھا دیتے ہیں۔ ایسے سادہ کاربوہایڈررٹ میں چینی، میدہ ، آلواورچاول غیرہ شامل ہیں۔ وہ شہد جو کہ جعلی طریقے سے ،یعنی مکھیوں کو چینی کا شیرہ پلا کر ،بنوایا جاتا ہے کا گلائیسمک انڈیکس بہت زیادہ ہوتا ہے۔ خالص شہد کا گلائیسیمک انڈیکس ۵۸ ہوتا ہے۔ یہ بھی کچھ زیادہ ہے مگر پھر بھی قابلِ قبول ہے۔ ایسے کھانوں کو زیادہ گلائیسیمک والی خوراک کہا جاتا ہے۔ یہ خوراک شوگر میں کھانی نقصان دہ ہے۔گلوکوز چونکہ سب سے چھوٹا اور سادہ کاربوہائڈرٹ ہے لہذا یہ کھائے جانے کے بعد فورا ہضم ہو کر خون میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کا گلا ئیسیمک انڈیکس ۱۰۰ ہے۔ کچھ اور کاربوہائڈریٹ بڑےاور پیچیدہ شکل میں ہوتے ہیں۔ جسم کو انہیں توڑ کر گلوکوز میں تبدیل کرنے میں وقت لگتا ہے لہذا یہ دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور خون میں شوگر ایک دم سے نہیں بڑھاتے ہیں۔ اس سے جسم کو وقت مل جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو زیادہ شوگر کو سنبھالنے کے لئے تیار کر لیتا ہے۔ اسی لئے ایسے کاروہہائڈرٹ شوگر کے مرض میں کھانے مفید ہوتے ہیں۔ان میں بغیر چھنا ہو ا گندم کاآٹا، جو، بیسن ، پھل، سبزیاں وغیرہ آتے ہیں۔ انہیں کم گلائیسیمک انڈیکس والی خوراک کہا جاتا ہے ایسے کھانوں کا گلائیسیمک انڈیکس 88 سے کم ہوتا ہے۔ جب کھانا خون میں شامل ہوجاتا ہے تو خون اسے کر لبلبے کی طرف جاتا ہے۔ گلوکوز کی ہر لمحے پیمائیش کرتا رہتاہےاور خون میں جتنا گلوکوز یا شوگر ہو اس کے مطابق ایک ہارمون جسے انسولین کہتے ہیں خون میں نکالتا ہے۔جب کھانے کے بعد گلوکوز سے لبریز خون لبلبے میں آتا ہے تو لبلبہ زی

    شوگر کا کم ہونا۔
    بعض اوقات ذیابیطس کا مریض دوا زیادہ یا کھانا کم کھائے تو خون میں شوگ بہت کم ہو جاتی ہے جسے لوگ شوگرڈاون ہونا یا لو ہونا کہتے ہیں۔ طب کی زبان میں اس کو ہائپوگلائیسیمیا یا پھر صرف ہائپو کہاجاتا ہے۔ خون میں شوگرجب 70 سے نیچے گر جاتی ہے تو تب شوگر کم ہونے کی علامات شروع ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا جسم ہر وقت شوگرکو جلا کر اس سے توانائی حاصل کرتا رہتا ہے۔ جب شوگرکم ہو جائے تو تمام جسم اور خاص طور پر دماغ اپنا کام کرنا جاری نہیں رکھ سکتا۔ یہ ایک نہایت خطرناک چیز ہے اور اس سےموت بھی ہوسکتی ہے۔ اس سے ہر حال میں بچنا چاہئے۔ شوگر کم ہونے کے دوران مریض کو پریشانی اور خوف حسوسس ہو تا ہے۔ بہت کمزوری محسوسس ہوتی ہے اور ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی حسوسس ہوتی ہے۔ ٹھنڈے پسینے آتے ہیں اور دل تیز دھڑکتا ہوا محسوسس ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو مریض کو فوراً کوئی میٹھی چیز کھانی چاہئے جیسے میٹھی گولیاں، مشروبات یا چینی وغیرہ اور اپنی شوگر فوراً چیک کرنی چاہئے۔ میٹھی چیز کھا نےکے بعد کچھ اور بھی کھانا چاہئے جیسے کہ تھوڑی روٹی یا چاول تاکہ شوگر دوبارہ نیچے نہ آجائے۔اگر اس وقت مریض کو کوئی میٹھی چیزنہ دی جائے تو مریض بہکی بہکی باتیں کرنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر آخر میں بیہوش ہوجاتا ہے۔ اگر پھر بھی اسکا علاج نہ ہو، جو کہ اسے تیزی کے ساتھ ہسپتال میں جانا ہے تاکہ اُسے گلوکوز کی ڈرپ لگ سکے، تو مریض مر سکتا ہے یا اُس کے دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کو گھر سے باہر جاتے وقت اپنے ساتھ میٹھی گولیاں ضرور رکھنی چاہ شوگر کے وہ مریض جن کی شوگر اکثر کم ہوجاتی ہےا پنےگھرمیں گلوکوز کا پاؤڈر یا 15 گرام گلوکوز کی گولیاں رکھیں اور اپنے گھر والوں کو بتائیں کہ اگر اُن کی شوگر کم ہو اور وہ بہکی بہکی باتیں کر رہے ہوں تو انہیں فورا گلوکوزدیا جائے یا کوئی بھی میٹھی چیز اور اگر وہ بےہوش ہوں تو ایمبولینس کو فوراً بلایا جائے یا انہیں کار میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا جائے۔ بہتر تو یہی ہے کے بےہوش مریض کے منہ میں کوئی چیز نہ ڈالی جائے کیوں کہ وہ میٹھا یا چینی مریض کی سانس کی نالی میں چلی جائے تو جس سے بےہوش مریض کا، جو کھانسی کر کے اپنے گلے کو صاف نہیں کرسکتا، دم گھٹ سکتا ہے۔ مگر پاکستان میں بعض اوقات ٹریفک کی وجہ سے یا ایمبولینس آنے کی وجہ سے بےہوش مریض ہسپتال نہیں پہنچ پاتا۔ اگر مریض کی شوگر اکثرکم ہو جاتی ہو اور بے ہوشی کا خطرہ ہو تو ایسے مرضوںں کو اپنے گھر میں گلوکاگون ایک ملی گرام کا انجکشن بھی رکھنا چاہئے۔ یہ انجکشن ایسے لگتا ہے جیسے انسولین کا یعنی کھال کے نیچے۔ گلوکاگون سے شوگر کچھ دیر کے لئے اوپر آجاتی ہے مگر اس دوران اگر مریض کچھ نہ کھائے تو پھر وا پس نیچے چلی جاتی ہے۔ گلوکاگون کا فائدہ یہ ہے کہ یہ بےہوش مریض کو بھی لگایا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات گلوکاگون سے بھی مریض بے ہو شی سے نہیں جاگتا۔ میرے خیال میں اگر مریض بےہوش ہو اور گلوکاگون کا اثر بھی نا ہوا ہو اور 30 منٹ سے زیادہ گزر گئے ہوں او رجلد ہسپتا ل پہنچنے کی صورت نہ بن رہی ہو تو مجبوری کے عالم میں گلوکوز یا پھر چینی ،مر یضکو بائیں کروٹ لٹا کر ا سِ طرح کہ اُس کا بائیاں رخسارر زمین یا بستر کے ساتھ لگ رہا ہو، ا س کی زبا ن کے نیچے چمچےسے ڈال دیں۔ یاد رکھیں کہ ہر بے ہوش انسان کو اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق بائیں کروٹ لٹانا چاہئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مریض اگر بے ہوشی کی حالت میں الٹی کرے تو وہ الٹی سانس کی نالی میں نہیں جاتی۔ ایک سے دوچمچے بہت ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے زیادہ مریض کی سانس کی نا میں چلاجائے گا ۔ بہت سے لوگ جنہیں شوگر کا مرض کئی سالوں سے ہو ان کے اعصاب شوگر سے اتنے خراب ہو چکے ہوتے ہیں کہ انہیں شوگر کے کم ہونے کا بھی پتا نہیں چلتا اورشوگر کم ہونے سے وہ بےہوش تو ہو جاتے مگر چونکہ انہیں شوگر کم ہونے کی کوئی علامت محسوسس نہیں ہوتی لہذا وہ میٹھا کھا کر بےہوشی سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتے۔ ایسے مریضوں کو اپنی شوگر روزانہ چیک کرنی چاہئے اور ان کے ڈاکٹر ایسی حالت میں ان کی شوگرکو بہت قابو میں رکھنے کو ترجیح نہیں دیتے۔
    شوگر کا بڑھ جانا۔
    اگر ذیابیطس کی دوسری قسم کامریض دوا نہ لے تو اس کی شوگربہت بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے اس سے پیشاب بہت آتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جس سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اس سے مریض بہت کمزوری محسوسس کرتا ہے اور اگر علاج نہ ہو تو بےہوش بھی ہوسکتا ہے۔ اسے نون کیٹوٹک کوما کہا جاتا ہے۔ اسکا علاج ہے مریض کو پانی دینا اور شوگر کو دوا کے ذریعے نیچے لانا ۔ اگر مریض بےہوش ہے یا اس کی شوگر 500 سے اوپر ہو تو اسے ہسپتال جانا چاہئے۔
    پہلی قسم کی ذیابیطس ، جو بچوں اور نوجوانوں کو ہوتی ہے، اس کا علاج صرف انسولین ہے۔ ہر بیماری جیسے نزلہ زکام یا
     
  2. Dr msk

    Dr msk Member

    Reputation:
    0
    انسولین ہے۔ ہر بیماری جیسے نزلہ زکام یادست وغیرہ میں جسم کو انسولین
    تھوڑی یا زیادہ چاہئے ہوتی ہے۔ لہذا پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریضوں کو کسی بیماری کی حالت میں اپنی شوگر باربار چیک کرنی چاہئے اور معمول سے تھوڑی زیادہ انسولین لگانی چاہئے۔ اگر وہ انسولین اپنی بیماری میں بڑھائیں یا پھر تندرستی میں انسولین بغیر کسی معقول وجہ کے کم کردیں یا بالکل نہ لگائیں تو ان کو ایک بہت خطرنا ک پیچیدگی ہو جاتی ہے جسے کیٹو ایسیڈوسس کہتے ہیں۔ اس میں خون میں شوگر بہت بڑھ جاتی ہےاور پیشاب بہت آتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات خصوصا پوٹاشیم کی کی کمی ہوجاتی ہے اورجسم بہت زیادہ تیزاب بنانا شروع کردیتا ہے۔ایسا مریض کمزوری محسوسس کرتا ہے اور نیم غنودگی میں چلاجاتا ہے۔ اگر پھر بھی علاج نہ شروع ہوتو بیہوش ہوجاتا ہےاور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ ایسےمریض کو فورا ہسپتال جانا چاہئے جہاں اسے انسولین ،نمکیات اور پانی کی کئی ڈرپیں لگائی جاتی ہیں۔ کیٹو ایسیڈوسس پہلی قسم کے ذیابیطس کے مریضوں میں تو بہت عام ہے مگر یہ دوسری قسم کے مریضوں میں نہیں ہوتا یا اس وقت چند لوگوں کوہوتا ہےجب ان کی شوگر کو کئی سال ہوچکے ہوں
     
  3. Dr msk

    Dr msk Member

    Reputation:
    0
    ذیابیطس کا علاج ۔
    زندگی کے انداز میں تبدیلی۔
    ہر طرح کی ذیابیطس کے لئیے دن میں کم ازکم آدھا گھنٹہ ورزش کرنا جیسے کہ تیز قدموں سے چلنا بہت مفید ہوتا ہے۔ ہر طرح کی ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی خوراک میں چکنائی بہت کم کردینی چاہئے۔ سبزیوں اور پھلوں کو خوراک میں شامل کریں اور چربی کے بغیر گوشت بھی اچھا ہے۔ نیز ہر طرح کی ذیابیطس کے مریضوں کو کم گلائیسیمک انڈیکس والی خوراک کھانی چاہئے تاکہ کھانے کے بعد شوگر ایک دم سے خون میں چلی جائے۔ گلائیسیمک انڈیکس کے بارے میں انٹرنیٹ پر موجود مزید معلومات ضرور دیکھئے ۔ بہتر تو یہی ہے کہ میٹھا جس کا گلائیسیمک انڈیکس بہت زیادہ ہوتا ہے، نہ استعمال کریں لیکن یاد رکھیں کہ چکنائی ذیابیطس کے لئیے میٹھے سے بھی زیادہ بری ہے۔ اگر میٹھا بہت پسند ہو تو پھر کبھی کھانے کے ساتھ تھوڑا میٹھا کھانے میں کچھ اتنا ہرج نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ آپ کھانے کے ساتھ میٹھا کھانے کے دو گھنٹوں بعداپنی شوگر چیک کریں اور اگر میٹھا کھانے سے شوگربہت بڑھ جاتی ہے تو پھر مت کھائیں۔ بہت بڑھنے سے مراد کھانے کے دو گھنٹوں بعد شوگر کا 200 سے اوپر جانا ہے۔
    تمباکو نوشی۔
    ہر طرح کی تمباکو نوشی خاص طور پر سگرٹ پینے سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے۔ سگرٹ ناصرف پھیپھڑے کا کینسر کرتا ہے بلکہ شوگر کے مریض کو تو لازماً دل، فالج اور ٹانگوں کا مرض بھی لگا دیتا ہے۔ قّہ بھی بری چیز ہے اور اس سے بھی بچنا چاہئے۔
    پہلی قسم کی ذیابیطس ۔
    چونکہ انسولین کی کمی سے ہوتی ہے لہذا اس کا علاج تو صرف انسولین کا انجکشن ہے۔ ایسے مرضوںں کو اپنی شوگر بار بارچیک کرتے رہنا چاہئے اور اپنی خوراک کو مدنظر رکھ کر انسولین کی مقدار کا تعین کرنا چاہئے۔ پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریض اپنی خوراک میں کاربوہایڈررٹ یعنی چینی ،نشاستہ مٹھاس وغیرہ کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اسے کاربوہائڈرٹ کاونٹنگ کہتے ہیں۔ عام طور پر 15 گرام کاربو ہائیڈریٹ کو ایک کاونٹ سمجھا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر کچھ ویب سائٹوں میں مختلف خوراک کے اندر موجود مختلف کاروہائڈرٹ مقدار بتائی گئی ہے۔ جتنے کاروہہائڈرٹ کاؤنٹ مریض نے کھانے ہوتے ہیں اسی کے حساب سے اسے انسولین کا انجکشن لگانا ہوتا ہے۔ زیادہ ترلوگوں کو ایک کاربوہائڈرٹ کاؤنٹ کے لئے ایک سے دو یونٹ انسولین چاہئے ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو تیز اثر کرنے والی انسولین ہر کھانے سے پہلے لگانی ہوتی ہے اور رات کو سوتے ہوئے یہ لمبی مدت تک اثر کرنے والی انسولین کا انجکشن لگاتے ہیں۔ اس طریقے کو بیزل بولس کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اُن کی شوگر کو قابو میں لانے کا بہترین طریقہ ہے مگر ذیابیطس کی پہلی قسم کے مریضوں کا علاج اور طریقوں سے انسولین کے انجکشن لگا کربھی کیا جاسکتا ہے ۔ پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریضوں کو بہت باقاعدگی کے ساتھ اپنے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے۔ چونکہ یہ لوگ کم عمر اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں لہذا اکثر یہ اپنی بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور شوگر سے بہت زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ لہذا ان کو بار بار سمجھاتے رہنا چاہئے۔
    دوسری قسم کی ذیابیطس۔
    چونکہ اس کی عام وجہ موٹاپا ہوتا ہے لہذا اس کے علاج کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنا وزن کم کرے۔ اگر وزن کم ہوجائے تو اکثر شوگر یا تو ختم ہوجاتی ہےیا پھر بہت ہلکی سی باقی رہ جاتی ہے۔ بعض لوگوں کی دوسری قسم کی ذیابیطس تو صرف خوراک کے پرہیز اور باقاعدہ ورزش سے ٹھیک ہوجاتی ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگوں کو دوا کھانی پڑتی ہے یا انسولین کا انجکشن لگانا پڑتا ہے۔ دوسری قسم کی ذیابیطس کے علاج میں صرف انسولین کا انجکشن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور صرف گولیاں بھی یا دونوں ملا کر بھی ۔ شوگر کا ٹیسٹ کرنا۔شوگر کے مریض کو روزانہ اپنی شوگر چیک کرنی چاہئے۔ پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریضوں کو تو دن میں کم از کم تین دفعہ یعنی صبح ناشتے سے پہلے، دوپہر کے کھانے سے پہلےاور رات کے کھانے سے پہلے اپنی شوگر ٹیسٹ کرنی چاہئے۔ بہت بہتر ہے کہ ایسے مرِیض رات کو سونے سے پہلے بھی اپنی شوگر ٹیسٹ کریں اور اس کے مطابق انسولین کا انجکشن لگائیں۔دوسری قسم کی ذیابیطس میں اتنا محتاط ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوسری قسم کی ذیابیطس کے مریضوں کو بھی اپنی شوگر روزانہ ٹیسٹ کرنی چاہئے لیکن دن میں ایک دفعہ کافی ہے۔ کبھی صبح خالی پیٹ ناشتے سے پہلے اور کبھی دوپہر یا کبھی رات کے کھانے کے سے پہلے ۔ لیکن اگر اُن کی شوگر پوری طرح سے ابھی سیٹ نہ ہوئی ہو تو پھر انہیں بھی دن میں تین سے چار دفعہ اپنی شوگر ٹیسٹ کرنی چاہئے۔ آپ کی صبح ناشتے سے پہلے خالی پیٹ شوگر 126 سے نیچے ہو تو بہت بہتر ہ
    ے۔ 140 سے اوپر ہونا قابلِ قبول نہیں اور آپ کو اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہئے۔ وہ عام طور پر آپ کی رات کی دوا بڑھا دے گا۔ اسی طرح دوپہر یا رات کےکھانے سے پہلے آپ کی شوگر 126 سے نیچے ہونی چاہئے اوراگر 140 سے اوپر آرہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کے پاس جائیے۔ اگر آپ کی
     
    • Like Like x 1
  4. aftabahmad

    aftabahmad New Member

    Reputation:
    0
    OSTEOPOROSIS causes bones to become weak and brittle — so brittle that a fall or even mild stress like bending over or coughing can cause a fracture.

    Osteoporosis-related fractures most commonly occur in the hip, wrist or spine.

    Osteoporosis affects men and women equally. But women — especially older women who are past menopause — are at highest risk. Medications, healthy diet and weight-bearing exercise can help prevent bone loss or strengthen already weak bones.

    Three factors essential for keeping your bones healthy throughout your life are:
    -Adequate amounts of calcium.
    -Adequate amounts of vitamin D.
    -Regular exercise
     
  5. Rana Irfan

    Rana Irfan Active Member

    Reputation:
    1
    An article in urdu....amazing
     
  6. zahra1234

    zahra1234 Member

    Top Poster Of Month

    Reputation:
    0
Similar Threads: Diabetes mellitus
Forum Title Date
Medical Downloads (Share / Request) Handbook of Diabetes, 4th Edition Apr 1, 2012
Test your knowledge Diabetes Jan 23, 2012
Test your knowledge MCQ Scenario: Diabetes Jan 20, 2011

Share This Page